جست

خورشید رضوی

جست

خورشید رضوی

MORE BY خورشید رضوی

    مرا حال یہ تھا

    زمستاں میں جب برف زاروں میں چلتے ہوئے

    گرسنہ بھیڑیوں کی قطاریں گزرتیں

    تو میں کپکپاتا

    یہ جی چاہتا عرصۂ زیست کو چھوڑ کر

    کوہساروں کے اس پار ڈیرا لگا لوں

    ادھر میرے جاتے ہی برفیں پگھل جائیں

    گرگان بے مہر میرے نقوش قدم سونگھ کر مجھ تک آنے نہ پائیں

    مگر اب تو جیسے

    مری روح میں کوئی چیتا سا انگڑائیاں لے رہا ہے

    یہ جی چاہتا ہے

    کہ گرگ آشتی کی سبھا جب لگے

    میں بھی تصویر جیسی کھلی آنکھ لے کر

    جو ہرگز جھپکتی نہ ہو

    غار کے وسط میں آن بیٹھوں

    اور ان میں سے جس جس کی آنکھیں جھپکتی چلی جائیں

    وہ لحظہ لحظہ مرا رزق ہو

    میں اسے پارہ پارہ کروں

    مآخذ:

    • Book: sarabon ke sadaf (Pg. 100)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites