جواہر لعل نہرو

ابرار کرتپوری

جواہر لعل نہرو

ابرار کرتپوری

MORE BYابرار کرتپوری

    INTERESTING FACT

    یہ نظم صنعت توشیح میں کہی گئی ہے پہلے اور دوسرے مصروع کے پہلے حروف سے بالترتیب ،جواہر لعل نہرو‘ بنتا ہے۔

    جان ہندوستان تھا نہرو

    جیسے اس کی زباں میں تھا جادو

    وہ وجاہت وہ شان تھی اس میں

    واقعی آن بان تھی اس میں

    امن عالم کا وہ پیامی تھا

    الغرض دوستی کا حامی تھا

    ہند کے آسماں کا تارا تھا

    ہم کو اس نے بہت سنوارا تھا

    روح پرور رخ و جمال اس کا

    روشنی ارتقا خیال اس کا

    لمس گل سے رہا معطر بھی

    لعل بھی وہ تھا اور جواہر بھی

    علم و حکمت سے پیار کرتا تھا

    عقل وہ اختیار کرتا تھا

    لب پہ جے ہند اس کے نعرہ تھا

    لینا آزادی صرف منشا تھا

    نور افزا ہیں یوں کرم اس کے

    نقش میں ہر طرف قدم اس کے

    ہر نفس احترام کرتے ہیں

    ہم اسے سب سلام کرتے ہیں

    رنگ اس نے دیا فسانے کو

    روشنی دے گیا زمانے کو

    وہ کہ بچوں کو سب سے پیارا تھا

    وہ محبت کا استعارہ تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY