جواہر لال

عرش ملسیانی

جواہر لال

عرش ملسیانی

MORE BYعرش ملسیانی

    اسی سے تازہ ہوئی رسم نیکی و خوبی

    اسی کے دم سے وطن پر تھا رحمتوں کا نزول

    علم اٹھا کے چلا تھا وہ امن عالم کا

    زمانے بھر کے لئے اس نے رکھا ایک اصول

    بھری تھی ذات میں اس کی بڑی بڑی تاثیر

    قبول بات ہوئی اس کی خود ہوا مقبول

    مقام اس کا مشاہیر کی صف اول

    ہر ایک حرف پسندیدہ ہر سخن مقبول

    نہ گرد غم سے ہوا اس کا قلب آلودہ

    نہ اس کے چہرے پہ دیکھی کبھی ملال کی دھول

    دیار ہند کا کردار ساز نیک سرشت

    وہ راحتوں کا پیمبر وہ نیکیوں کا رسول

    فضائیں جس سے معطر ہیں اور عنبر‌‌ ریز

    مہک رہا ہے وطن میں وہی گلاب کا پھول

    مزاج جس کا محبت تھا اور شگفتہ دل

    شعار جس کا شرافت تھا مستقل معمول

    قدم پہ اس کے فدا دانش اور علم و یقیں

    ہزار کہتے ہیں انسان کو ظلوم و جہول

    مشام جان جہاں مشک بار ہے جس سے

    ہر ایک برگ پہ رنگ بہار ہے جس سے

    جمالیات کا گھر کوہسار ہے جس سے

    سبو بدوش ہر اک بادہ خوار ہے جس سے

    کرم ہے ساقئ مے خانہ کا بہت گل ریز

    ہوائیں جس سے معطر ہیں اور عنبر ریز

    مہک رہا ہے وطن میں وہی گلاب کا پھول

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Arsh (Pg. 405)
    • Author : Arsh Malsiyani
    • مطبع : Ali Imran Chaudhary

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY