جسم کی کشتی میں آ

شہریار

جسم کی کشتی میں آ

شہریار

MORE BYشہریار

    ہوا کے پاؤں اس زینے تلک آئے تھے لگتا ہے

    دیئے کی لو پہ یہ بوسہ اسی کا ہے

    مری گردن سے سینے تک

    خراشوں کی لکیروں کا یہ گلدستہ

    طلسمی قفل کھلنے کی اسی ساعت کی خاطر

    ہجر کے موسم گزارے ہیں

    ہوا نے مدتوں میں پاؤں پانی میں اتارے ہیں

    مری پسلی سے پیدا ہو

    وہی گندم کی بو لے کر

    زمیں اور آسماں کی وسعتیں

    مجھ میں سمٹ آئیں

    الوہی لذت نایاب سے سرشار کر مجھ کو

    میں اک پیاسا سمندر ہوں

    تو اپنی جسم کی کشتی میں آ

    اور پار کر مجھ کو

    مآخذ
    • کتاب : sooraj ko nikalta dekhoon (Pg. 532)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY