کارنامہ

اختر الایمان

کارنامہ

اختر الایمان

MORE BY اختر الایمان

    عظیم کام کروں کوئی ایک دن سوچا

    کہ رہتی دنیا میں اپنا بھی نام رہ جائے

    مگر وہ کام ہو کیا ذہن میں نہیں آیا

    پیمبری تو زیاں جان کا ہے دعویٰ کیا

    تو جانے سولی پہ چڑھنا ہو یا چلیں آرے

    کہ زندہ آگ کی لپٹوں کی نذر ہونا پڑے

    خیال آیا فنون لطیفہ ڈھیروں ہیں

    صنم تراشی ہے نغمہ گری کہ نقاشی

    یہ سب ہی دائمی شہرت کا اک وسیلہ ہیں

    مگر نہ لفظوں پہ قدرت نہ رنگ قابو میں

    پھر اک ذریعہ سیاست ہے نام پانے کا

    علاوہ نام کے مہرے بنا کے لوگوں کو

    بساط ارض پہ شطرنج کھیل سکتے ہیں

    مگر یہ فن بھی مری دسترس سے باہر تھا

    پھر اور کیا ہو بہت کچھ خیال دوڑایا

    علاوہ ان کے مجھے اور کچھ نہیں سوجھا

    زمانے بعد سمندر کنارے بیٹھا تھا

    عظیم شے ہے سمندر بھی میرے دل نے کہا

    وہ کیا طریقہ ہو میں اس کا بھاگ بن جاؤں

    سمجھ میں آیا نہیں کوئی راستہ بھی جب

    تو جھنجھلا کے سمندر میں کر دیا پیشاب

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    کارنامہ نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY