کبھی کبھی

سحر انصاری

کبھی کبھی

سحر انصاری

MORE BYسحر انصاری

    کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوا کرتا ہے

    جیسے لفظ کے سارے رشتے بے معنی ہیں

    لگتی ہے کانوں کو اکثر

    خاموشی آواز کے سناٹے سے بہتر

    سادہ کاغذ

    لکھے ہوئے کاغذ سے اچھا لگتا ہے

    خوابیدہ لفظوں کو آخر

    جاگتی آنکھوں کی تصویر دکھائیں کیسے

    پلکوں پر آواز سجائیں کیسے

    کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے تم میری نظمیں ہو

    جن کو پڑھ کر کبھی کبھی میں یوں بھی سچا کرتا ہوں

    لفظوں کے رشتے بے معنی ہوتے ہیں

    لفظ کہاں جذبوں کے ثانی ہوتے ہیں

    مآخذ:

    • کتاب : namuud (Pg. 84)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY