کل کی بات

اختر الایمان

کل کی بات

اختر الایمان

MORE BY اختر الایمان

    ایسے ہی بیٹھے ادھر بھیا تھے دائیں جانب

    ان کے نزدیک بڑی آپا شبانہ کو لیے

    اپنی سسرال کے کچھ قصے لطیفے باتیں

    یوں سناتی تھیں ہنسے پڑتے تھے سب

    سامنے اماں وہیں کھولے پٹاری اپنی

    منہ بھرے پان سے سمدھن کی انہیں باتوں پر

    جھنجھلاتی تھیں کبھی طنز سے کچھ کہتی تھیں

    ہم کو گھیرے ہوئے بیٹھی تھیں نعیمہ شہناز

    وقفہ وقفہ سے کبھی دونوں میں چشمک ہوتی

    حسب معمول سنبھالے ہوئے خانہ داری

    منجھلی آپا کبھی آتی کبھی جاتی تھیں

    ہم سے دور ابا اسی کمرے کے اک کونے میں

    کاغذات اپنے اراضی کے لیے بیٹھے تھے

    یک بیک شور ہوا ملک نیا ملک بنا

    اور اک آن میں محفل ہوئی درہم برہم

    آنکھ جو کھولی تو دیکھا کہ زمیں لال ہے سب

    تقویت ذہن نے دی ٹھہرو نہیں خون نہیں

    پان کی پیک ہے یہ اماں نے تھوکی ہوگی

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    کل کی بات نعمان شوق

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY