کربلا

مظفر وارثی

کربلا

مظفر وارثی

MORE BYمظفر وارثی

    لبوں پہ الفاظ ہیں کہ پیاسوں کا قافلہ ہے

    نمی ہے یہ یا فرات آنکھوں سے بہہ رہی ہے

    حیات آنکھوں سے بہہ رہی ہے

    سپاہ فسق و فجور یلغار کر رہی ہے

    دلوں کو مسمار کر رہی ہے

    لہو لہو ہیں ہماری سوچیں

    برہنہ سر ہے حیا تمنائیں بال نوچیں

    وفا کے بازو کٹے ہوئے ہیں

    ہلاکتوں کے غبار سے زندگی کے میداں پٹے ہوئے ہیں

    دھواں ہر اک خیمۂ صدا سے نکل رہا ہے

    ہر ایک اندر سے جل رہا ہے

    ریا کے نیزوں پہ آج سچائیوں کے سر ہیں

    یزیدیت کے اصول اپنے عروج پر ہیں

    بڑی ہی ظالم ہے حق پسندی کو چین لینے نہ دے یہ دنیا

    ہمیں تو کوفہ لگے یہ دنیا

    قدم قدم آزمائشوں کی فضا ملی ہے

    ہمیں تو ہر دور میں نئی کربلا ملی ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Kalam-e- muzaffar warsi (Pg. 198)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY