کشتی
یقین مانو
کہ میری آنکھوں کے خشک تنور سے
وہ چشمہ ابلنے والا ہے
جس کا پانی
بہا کے لے جائے گا یہ سب کچھ
ذرا بھی خشکی کہیں نہ ہوگی
کہ جس پہ کوئی قدم جما لے
کہیں بھی جائے اماں نہ ہوگی
جہاں پہ چھپ جائے کوئی اور جان بخشوا لے
تو سب یہ اعلان عام سن لیں
وہ سب جو اس وقت مجھ پہ ہنستے تھے
جب میں یادوں کے جوڑوں کو جمع کر رہا تھا
وہ سب سنیں
کہ زندگی بس رہے گی اس کی
جو میری کشتی میں ساتھ ہوگا
کہ میں
جو خوابوں کی ایک کشتی بنا رہا تھا
وہ آج تیار ہو گئی ہے
Subh Bakhair Zindagi
Buy This BookAdditional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.