خاکم بدہن

فہمیدہ ریاض

خاکم بدہن

فہمیدہ ریاض

MORE BYفہمیدہ ریاض

    میں عازم مے خانہ تھی کل رات کہ دیکھا

    اک کوچۂ پر شور میں اصحاب طریقت

    تھے دست و گریباں

    خاکم بدہن پیچ عماموں کے کھلے تھے

    فتووں کی وہ بوچھاڑ کہ طبقات تھے لرزاں

    دستان مبارک میں تھیں ریشان مبارک

    موہائے مبارک تھے فضاؤں میں پریشاں

    کہتے تھے وہ باہم کہ حریفان سیہ رو

    کفار ہیں بد خو

    زندیق ہیں ملعون ہیں بنتے ہیں مسلماں

    ہاتف نے کہا رو کے کہ اے رب سماوات!

    لا ریب سراسر ہیں بجا دونوں کے فتوات

    خلقت ہے بہت ان کے عذابوں سے ہراساں

    اب ان کی ہوں اموات!

    RECITATIONS

    فہمیدہ ریاض

    فہمیدہ ریاض

    فہمیدہ ریاض

    خاکم بدہن فہمیدہ ریاض

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY