کھنڈر

MORE BYکفیل آزر امروہوی

    کیسی خاموشی ہے ویرانی ہے سناٹا ہے

    کوئی آہٹ ہے نہ آواز نہ کوئی دھڑکن

    دل ہے یا قبر سلگتی ہوئی تنہائی کی

    ذہن ہے یا کسی بیوہ کا اکیلا آنگن

    اڑ گیا رنگ ہر اک سوچ کے آئینے کا

    شب کے بے نور دوپٹے سے ستارے ٹوٹے

    جم گئی گرد خیالوں کی حسیں راہوں پر

    مدتیں ہو گئیں امید کا دامن چھوٹے

    یک بیک دور بہت دور بہت دور کہیں

    تیری پازیب چھنکنے کی صدا آنے لگی

    شوق نے پاؤں بڑھائے اسی آواز کی سمت

    تجھ سے ملنے کی لگن اور بھی تڑپانے لگی

    یہ کھنڈر آج جہاں رات کی تاریکی میں

    تو نے بھولے ہوئے افسانے کو دہرایا ہے

    اسی اجڑے ہوئے ویران کھنڈر میں کہ جہاں

    کتنے دن بعد ترا سایہ نظر آیا ہے

    اسی اجڑے ہوئے ویران کھنڈر میں ہم نے

    عمر بھر ساتھ نبھانے کی قسم کھائی تھی

    اسی اجڑے ہوئے ویران کھنڈر میں تیرے

    تھرتھراتے ہوئے ہونٹوں پہ دعا آئی تھی

    رسم کوئی ہو مگر ہم کو جدا کر نہ سکے

    یہ روایات نہ پہنائیں کبھی زنجیریں

    ہم کہ اس راز سے اس بات سے ناواقف تھے

    کہ دعاؤں سے بدلتی ہی نہیں تقدیریں

    لیکن اب رسم کوئی کچھ نہ کہے گی مجھ سے

    اب روایات کو مجبور کیا ہے میں نے

    اب نہ روکے گا مری راہ زمانہ بڑھ کر

    جو بھی انجام ہو یہ سوچ لیا ہے میں نے

    میں مقدر سے گلے مل کے نہیں رو سکتا

    تجھ کو پانا مرا مقصد ہے تجھے پاؤں گا

    آج ٹھکرا کے ہر اک مصلحت اندیشی کو

    تیرے سائے کے تعاقب میں چلا جاؤں گا

    مآخذ:

    • کتاب : Dhoop Ka Dareecha (Pg. 31)
    • Author : Kafeel Aazar Amrohi
    • مطبع : S. F. Printers Delhi (1993)
    • اشاعت : 1993

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY