خوف نامہ

وحید احمد

خوف نامہ

وحید احمد

MORE BYوحید احمد

    ناف کٹتی ہے زخم جلتا ہے

    خوف دھڑکن کے ساتھ چلتا ہے

    ہر رگ جاں میں سرسراتا ہے

    سانس کے ساتھ آتا جاتا ہے

    کھال کو چھال سے ملاتی ہے

    سنسنی رونگٹے بناتی ہے

    طاق جاں میں چراغ رکھتا ہے

    خوف وحشت کا تیل چکھتا ہے

    سجدۂ غم میں گر گیا زاہد

    سرسراتی جبیں میں خوف لیے

    ہو گیا انگبین سے نمکین

    ذائقہ آستیں میں خوف لیے

    سانپ لشکر کے ساتھ چلتا ہے

    میمنہ میسرہ میں خوف لیے

    حسن غمزے کے دم سے قائم ہے

    اپنی ہر ہر ادا میں خوف لیے

    زندگی ایک فرش ہے جس پر

    ڈر اٹھائیں تو ہول بچھتا ہے

    شاہراہ حیات کے اوپر

    خوف کا تارکول بچھتا ہے

    مذہب ایجاد کرتا رہتا ہے

    معبد آباد کرتا رہتا ہے

    یہ تو اندر کی سنگ ساری ہے

    خوف برباد کرتا رہتا ہے

    فہم و دانش کے زرد سوداگر

    وسوسوں کی کپاس بیچتے ہیں

    روح کی مارکیٹ ان کی ہے

    جو عقیدے ہراس بیچتے ہیں

    زندگی ہم سفر ہے لیکن خوف

    راستے میں اتار دیتا ہے

    پرچۂ جاں کے ہر شمارے میں

    واہمہ اشتہار دیتا ہے

    موت خود مارتی نہیں جتنا

    موت کا خوف مار دیتا ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    خوف نامہ نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY