کھلتا ہوا گلاب ہے 26 جنوری

شوکت پردیسی

کھلتا ہوا گلاب ہے 26 جنوری

شوکت پردیسی

MORE BYشوکت پردیسی

    INTERESTING FACT

    مطبوعہ: ماہنامہ کھلونا، 1978

    لمحے نئے ہیں سال نیا آرزو نئی

    ہمت نہیں ہے راہ نئی جستجو نئی

    لگتی ہے ہم کو آج ہر اک گفتگو نئی

    اجلا سا آفتاب ہے چھبیس جنوری

    کھلتا ہوا گلاب ہے چھبیس جنوری

    جس دن بنا تھا ملک میں آئین خوش گوار

    اپنے چمن میں آئی تھی جس دن نئی بہار

    جو دن ہے اپنی عظمت و رفعت کی یادگار

    اس دن کا ایک باب ہے چھبیس جنوری

    کھلتا ہوا گلاب ہے چھبیس جنوری

    ہر راہ رو کی لال قلعے پر نظر ہے آج

    اونچا جہاں میں اپنے ترنگے کا سر ہے آج

    آزادیٔ وطن کی خوشی اوج پر ہے آج

    روشن ہے کامیاب ہے چھبیس جنوری

    کھلتا ہوا گلاب ہے چھبیس جنوری

    دل میں بلند حوصلے رکھتے ہیں نوجواں

    سوراج مل گیا ہے تو بچے ہیں شادماں

    مسرور زندگی ہے ارادے ہیں کامراں

    اک جشن آب و تاب ہے چھبیس جنوری

    کھلتا ہوا گلاب ہے چھبیس جنوری

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY