خود کلامی سے پوچھا نہیں

عارفہ شہزاد

خود کلامی سے پوچھا نہیں

عارفہ شہزاد

MORE BY عارفہ شہزاد

    سرمئی بادلوں کو اڑا لے گئی

    رس بھری بارشیں کھا گئی

    اب افق پر ہیں زہراب نیلاہٹیں

    کاسنی بیل دیوار پر

    سوئی ہی رہ گئی

    نرگسی پھول تھے

    جاگتے رہ گئے

    چمپئی رنگتوں میں

    عجب زردیاں گھل گئیں

    کھیل رنگوں کا ہے

    اوٹ کاغذ کی ہے

    ہاتھ کی بے ہنر لرزشیں

    رنگ کب چن سکیں

    سوچتے سوچتے آنکھ ساکت ہوئی

    کون سے رنگ میں

    کون سا رنگ ہے گھل گیا

    آتشیں ہے دہک

    یا گلابی مہک

    دیکھتی بھی نہیں

    سونگھتی بھی نہیں

    چھو کے بھی تو یہاں سے گزرتی نہیں

    کون سی حس جگہوں

    کہ جاگے ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY