خودکشی کے پل پر

فہیم شناس کاظمی

خودکشی کے پل پر

فہیم شناس کاظمی

MORE BYفہیم شناس کاظمی

    خودکشی کے پل پر

    سمندر کی لہروں میں بہتی

    فسردہ و ناکام

    جسموں کی روحیں

    بلاتی ہیں مجھ کو

    چلے آؤ ہر غم سے دامن چھڑا لو

    مٹا دو

    فنا ہونے والے بدن کو مٹا دو

    فنا سے نہ ڈرنا

    یہی اصل میں زندگی ہے

    اسی میں حقیقی خوشی ہے

    سمندر کی لہروں میں

    سیال روحوں کے

    گیتوں میں بے حد کشش ہے

    یہ دل چاہتا ہے

    کہ میں جا ملوں ان سے

    ان سا ہی ہو جاؤں

    پر میں انہیں کس طرح یہ بتاؤں

    کہ اے اضطراب مسلسل کے گرداب میں قید روحو

    مجھے تم سے ہمدردی ہے

    پیار ہے

    میں خود چاہتا ہوں

    من و تو کی ساری فصیلیں پھلانگوں

    مگر کیا کروں

    کچھ مقدس سے رشتے

    دعا گو سی آنکھیں

    مجھے یاد آتی ہیں

    چپ چاپ گھر لوٹ آتا ہوں میں

    ان حسیں پیارے لوگوں کی خاطر تو

    جینا پڑے گا

    یہ زہراب پینا پڑے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY