خودکشی

مجید امجد

خودکشی

مجید امجد

MORE BY مجید امجد

    ہاں میں نے بھی سنا ہے تمہارے پڑوس میں

    کل رات ایک حادثۂ قتل ہو گیا

    ہاں میں نے بھی سنا ہے کہ اک جام زہر کا

    دو جیونوں کی ننھی سی نوکا ڈبو گیا

    کوئی دکھی جوان وطن اپنا چھوڑ کر

    اپنی سکھی کے ساتھ اک اور دیس کو گیا

    دنیا کے خارزار میں سو ٹھوکروں کے بعد

    یوں آخر ان کا قصۂ غم ختم ہو گیا

    یوں طے کیا انہوں نے محبت کا مرحلہ

    ایک ایک گھونٹ اور جو ہونا تھا ہو گیا

    دونوں کی آنکھ میں تھا اک اک اشک منجمد

    جو خشک خشک پلکوں کی نوکیں بھگو گیا

    کچھ کہنے پائی تھی کہ وہ خاموش ہو گئی

    کوئی جواب دینے کو تھا وہ کہ سو گیا

    پیمانۂ اجل کا وہ تلخابہ اس طرح

    روحوں کے زخموں سینوں کے داغوں کو دھو گیا

    اکثر یونہی ہوا ہے کہ الفت کا امتحاں

    دشواریوں میں موت کی آسان ہو گیا

    آؤ نا ہم بھی توڑ دیں اس دام زیست کو

    سنگ اجل پہ پھوڑ دیں اس جام زیست کو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY