خواب کی دلی

عطا عابدی

خواب کی دلی

عطا عابدی

MORE BYعطا عابدی

    سپنے میں رات آئی دلی

    دیر تلک بتیائی دلی

    پوچھ رہی تھی حال بتاؤ

    گزرا کیسے سال بتاؤ

    بسنے والوں میں دلی کے

    بولو سچے دوست نہیں تھے

    یا کہ بزرگوں کی صحبت میں

    کمی تھی کچھ ان کی شفقت میں

    بہ یک نظر ہر چیز بھلا دی

    منظر کو یا خود کو سزا دی

    میں جو تیرے دل کی ادا تھی

    کیا میری الفت ہی خطا تھی

    گلیاں سڑکیں دفتر ہوٹل

    ہر جا ہے یادوں کی ہلچل

    آج میں کیا خوبی ہے جو یوں

    بھول چکے ہو تم اپنا کل

    حسن کے ہیں وہ کون سے جلوے

    جو میرے دامن میں نہیں تھے

    کیا ایسی افتاد پڑی جو

    بھول گئے دل ساز زمیں کو

    کیا میرے سائے کے نیچے

    راحت اور آرام نہیں تھے

    مانا پرائی تھی میں ہائے

    اپنوں سے کتنے سکھ پائے

    سوالوں کی اس آڑ میں دلی

    وجہ جدائی پوچھ رہی تھی

    جمی تھیں مجھ پر کئی نگاہیں

    دل میں دبی تھیں اپنی آہیں

    کہتا کیا الفاظ نہیں تھے

    آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے

    ساری حالت جان گئی وہ

    کہہ کے مجھے نادان گئی وہ

    سپنے میں رات آئی دلی

    دیر تلک بتیائی دلی

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    عطا عابدی

    عطا عابدی

    RECITATIONS

    عطا عابدی

    عطا عابدی,

    عطا عابدی

    خواب کی دلی عطا عابدی

    مأخذ :
    • کتاب : Zindagi, Zindagi Aur Zindagi (Pg. 83)
    • Author : Ata Abidi
    • مطبع : Maktaba Afkar (2010)
    • اشاعت : 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY