خوابوں کو سمجھوتے راس نہیں آتے

انور سین رائے

خوابوں کو سمجھوتے راس نہیں آتے

انور سین رائے

MORE BY انور سین رائے

    دل میں اک معدوم زمانے کے

    اور اک دنیا کے ہونے کی

    امید لیے

    آنکھوں میں پت جھڑ تھامے

    ساکت سرد ہوا پر اڑتی تتلی

    رک جا

    تھم جا

    مجھے یہ ڈر لگتا ہے

    اک دن یہی ساکت سرد ہوا

    جھکڑ بن جائے گی

    یہی تلوے چومتی مٹی

    بگولے بن کر

    تیرے تعاقب میں نکلے گی

    تیرے نرم پروں کی دشمن

    پاگل تتلی

    تیرے خواب تیری دنیا ہیں

    لیکن اک دنیا

    تیرے خوابوں سے باہر بھی بستی ہے

    اس دنیا میں جینا سمجھوتہ ہے

    لیکن خوابوں کو سمجھوتے راس نہیں آتے

    پھر بھی تو نے اسی ہوا پر اڑنا ہے

    ان شاخوں پر پھول بہت کم اگتے ہیں

    لیکن تجھے تو انہی شاخوں پر بیٹھنا ہے

    تھم جا تتلی

    میرے دل کی مٹی میں اب پھول نہیں کھلتے

    لیکن جب بھی پھول کھلے

    تم پہلے پھول پہ بیٹھنا

    مجھ میں اڑنا

    جب تک دل چاہے

    تھم جا تتلی

    مآخذ:

    • Book: Pakistani Adab (Pg. 112)
    • Author: Dr. Rashid Amjad
    • مطبع: Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
    • اشاعت: 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites