کوہ ندا

وزیر آغا

کوہ ندا

وزیر آغا

MORE BYوزیر آغا

    صبح سویرے

    ایک لرزتی کانپتی سی آواز آتی ہے

    سونے والو! تم مالک کو بھول گئے ہو

    تم مالک کو بھول گئے ہو

    پھر چمکیلی مل کا سائرن

    ایک غلیظ ڈرانے والی تند صدا کے روپ میں ڈھل کر

    دیواروں سے ٹکراتا ہے

    اور گلیوں کے

    تنگ اندھیرے باڑے میں کہرام مچا کر

    بھیڑوں کے گلے کو ہانک کے لے جاتا ہے

    پھر انجن کی برہم سیٹی

    میخ سی بن کر میرے کان میں گڑ جاتی ہے

    اور شب بھر کی نچی ہوئی اک ریل کی بوگی

    اپنی کلائی انجن کے پنجے میں دے کر

    چل پڑتی ہے

    پھر اک دم اک سناٹا سا چھا جاتا ہے

    اور میں گھڑی کی ظالم سوئیوں کی ٹک ٹک میں

    دن کے زرد پہاڑ پہ چڑھنے لگتا ہوں

    مأخذ :
    • کتاب : Nai Nazm ka safar (Pg. 161)
    • Author : Khalilur Rahman Azmi
    • مطبع : NCPUL, New Delhi (2011)
    • اشاعت : 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے