کوئی خواب خواب سا فاصلہ

راجیندر منچندا بانی

کوئی خواب خواب سا فاصلہ

راجیندر منچندا بانی

MORE BY راجیندر منچندا بانی

    لب زرد پر

    کوئی حمد ہے کہ گلہ

    کہو

    مری پیلی آنکھ میں

    بجھتے خوں کا

    الاؤ ہے کہ طلا

    کہو

    مرے دست و بازو

    میں آج بھی

    کوئی لمس قید ہے

    اور سینے کی

    بے وقاری

    کے اندروں

    کوئی حرف اپنا ہی صید ہے

    کہ جسے رسائی

    نہ مل سکی

    یہ مری جھجھک کی

    برید ہے کہ صلہ

    کہو

    کبھی ایک بات نہ کہہ سکوں

    کبھی اب کہ چیخ

    مجھے چاہئے وہی

    دود دود سا

    ایک قرب کے درمیاں

    کوئی خواب خواب سا

    فاصلہ

    کوئی آج مجھ سے

    وہ بات پوچھے

    کہ جس کے معنئ دور

    جانتا ہوں میں اب

    کہ ہزار شعلوں

    کی راکھ پر

    کسی بوند آنسو

    کے سیل میں

    یہ گنوائے رشتوں

    کا سرد پھول کھلا

    کہو

    لب زرد پر

    کوئی حمد ہے کہ گلہ

    کہو!

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyat-e-bani (Pg. 205)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY