کچھ دے اسے رخصت کر

ابن انشا

کچھ دے اسے رخصت کر

ابن انشا

MORE BYابن انشا

    کچھ دے اسے رخصت کر کیوں آنکھ جھکا لی ہے

    ہاں در پہ ترے مولا! انشاؔ بھی سوالی ہے

    اس بات پہ کیوں اس کی اتنا بھی حجاب آئے

    فریاد سے بے بہرہ کشکول سے خالی ہے

    شاعر ہے تو ادنیٰ ہے، عاشق ہے تو رسوا ہے

    کس بات میں اچھا ہے کس وصف میں عالی ہے

    کس دین کا مرشد ہے، کس کیش کا موجد ہے

    کس شہر کا شحنہ ہے کس دیس کا والی ہے؟

    تعظیم کو اٹھتے ہیں اس واسطے دل والے

    حضرت نے مشیخت کی اک طرح نکالی ہے

    آوارہ و سرگرداں کفنی بہ گلو پیچاں

    داماں بھی دریدہ ہے گدڑی بھی سنبھالی ہے

    آوارہ ہے راہوں میں، دنیا کی نگاہوں میں

    عزت بھی مٹا لی ہے تمکیں بھی گنوا لی ہے

    آداب سے بیگانہ، در آیا ہے دیوانہ

    نے ہاتھ میں تحفہ ہے، نے ساتھ میں ڈالی ہے

    بخشش میں تامل ہے اور آنکھ جھکا لی ہے

    کچھ در پہ ترے مولا، یہ بات نرالی ہے

    انشاؔ کو بھی رخصت کر، انشاؔ کو بھی کچھ دے دے

    انشاؔ سے ہزاروں ہیں، انشاؔ بھی سوالی ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    ابن انشا

    ابن انشا

    مأخذ :
    • کتاب : Is Basti ke ik Kooche Men (Pg. 119)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے