کیوں

MORE BYادا جعفری

    تم جو قاتل نہ مسیحا ٹھہرے

    نہ علاج شب ہجراں نہ غم چارہ گراں

    نہ کوئی دشنۂ پنہاں

    نہ کہیں خنجر سم آلودہ

    نہ قریب رگ جاں

    تم تو اس عہد کے انساں ہو جسے

    وادی مرگ میں جینے کا ہنر آتا تھا

    مدتوں پہلے بھی جب رخت سفر باندھا تھا

    ہاتھ جب دست دعا تھے اپنے

    پانو زنجیر کے حلقوں سے کٹے جاتے تھے

    لفظ تقصیر تھے

    آواز پہ تعزیریں تھیں

    تم نے معصوم جسارت کی تھی

    اک تمنا کی عبادت کی تھی

    پا برہنہ تھے تمہارے

    یہی بوسیدہ قبا تھی تن پر

    اور یہی سرخ لہو کے دھبے

    جنہیں تحریر گل و لالہ کہا تھا تم نے

    ہر نظارہ پہ نظارگی جاں تم کو

    ہر گلی کوچۂ محبوب نظر آئی تھی

    رات کو زلف سے تعبیر کیا تھا تم نے

    تم بھلا کیوں رسن و دار تک آ پہنچے ہو

    تم نہ منصور نہ عیسیٰ ٹھہرے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY