لال بیگ اڑ گیا

رفیق سندیلوی

لال بیگ اڑ گیا

رفیق سندیلوی

MORE BYرفیق سندیلوی

    طعام گاہوں کی

    بچی کھچی غذا پہ پل رہا تھا

    نم زدہ شگافوں

    گھن لگے درازوں میں

    چھپا ہوا

    وہ مطمئن تھا

    غیر مرئی نالیوں سے

    مین ہول تک

    غلاظتیں بہا کے لانے والی

    سست و تیز

    ساری لائنوں میں گھومتا تھا

    ایک روز

    ہست کی گرہ میں

    اس کی لانبی ٹانگ

    اک انوکھے پیچ میں الجھ گئی

    تو ٹیس درد کی اٹھی

    وجود پھڑپھڑا گیا

    جھٹک کے ٹانگ

    پیچ سے نکال لی

    تو ایک دم اسے لگا

    کہ اس کی دسترس میں پر بھی ہیں

    عجیب ثانیہ تھا

    پانیوں کی ہولناک بو میں

    کیچ کی امس میں

    دونوں وقت مل رہے تھے

    ہالۂ نفس میں

    دھیرے دھیرے اس کے

    صندلیں سنہری پر بھی ہل رہے تھے!

    لال بیگ

    جو شروع دن سے

    موت اور زندگی

    صفائی اور گندگی

    نکاسیٔ وجود

    خیر و شر

    روانی و جمود کے معاملات میں گھرا ہوا تھا

    خاک روبوں ،مہتروں کے ساتھ

    کائناتی موریوں زمانی بد رووں میں

    رہتے رہتے تنگ آ گیا تھا

    راستے کے بیچ ہی سے مڑ گیا

    اچانک ایک روز

    لال بیگ اڑ گیا!!

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے