لڑاکو چڑا

کیف مرادآبادی

لڑاکو چڑا

کیف مرادآبادی

MORE BYکیف مرادآبادی

    میرے کمرے کے بڑے طاق میں اک آئینہ

    صورتیں سب کو دکھانے کے لئے رکھا ہے

    سامنے آئنے کے بیٹھ کے روز ایک چڑا

    جانے کیوں عکس سے اپنے ہی لڑا کرتا ہے

    کبھی پنجوں سے کبھی چونچ سے حملے کر کے

    یہ سمجھتا ہے اسے جیت یقینی ہوگی

    اس حماقت سے اگر باز نہیں آئے گا

    چونچ کیا اس کی تو رگ رگ کبھی زخمی ہوگی

    جب کوئی کام نہ ہوگا اسے لڑنے کے سوا

    سانس بھی لے نہ سکے گا کبھی بے خوف و ہراس

    پھر کسی دن یہ تماشا بھی نظر آئے گا

    ننھی سی لاش پڑی ہوگی اس آئنے کے پاس

    سوچتا ہوں کہ مرے ملک کے لاکھوں بچے

    روز آپس میں اسی طرح لڑا کرتے ہیں

    فائدہ اس سے کسی کو بھی نہیں ہوتا ہے

    کچھ نہ کچھ اپنا ہی نقصان کیا کرتے ہیں

    یہی عادت جو بنا لی تو وہ دن بھی ہے قریب

    چین سے رہ نہ سکیں گے یہ لڑائی کے بغیر

    کوئی بھی پاس سے گزرا تو خوشی کا کیا ذکر

    کچھ بھی تو کہہ نہ سکیں گے یہ لڑائی کے بغیر

    بے سبب لڑنے کے جذبہ کو جو روکا نہ گیا

    لوگ عاقل ہوں کہ نادان لڑے جائیں گے

    اپنی فطرت ہی بنا لیں گے جو باہم لڑنا

    جانور ہوں کہ ہوں انسان لڑے جائیں گے

    وہ مخالف نہ سہی اپنا کوئی عکس سہی

    مل ہی جائے گا انہیں کوئی جھگڑنے کے لئے

    آئنے سامنے رکھ کر یہی سرکش بچے

    بیٹھ جائیں گے ہر اک صبح کو لڑنے کے لئے

    سب رہے جائیں گے آپس میں اگر مل جل کر

    ہر جگہ ملک میں گلزار نظر آئیں گے

    اور اگر بغض و عداوت کا یہی جوش رہا

    جا بجا لاشوں کے انبار نظر آئیں گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY