Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

لمس اپنی کہانی نہیں بھولتا

سحر علی

لمس اپنی کہانی نہیں بھولتا

سحر علی

MORE BYسحر علی

    دل نہیں مانتا

    مجھ کو سچ سچ بتا

    آج بھی تیرے کمرے کی کوری مہک

    ڈھونڈھتی ہے مجھے

    تیرے سونے دریچے کی بیکل ہوا

    جس نے پکڑا تھا اک روز دامن مرا

    جب ترے پاس آئی وہ جان وفا

    تجھ سے پوچھا مرا

    شیلف میں رکھی ساری کتابوں کے اوپر جمی دھول میں

    ان میں رکھے ہوئے کاسنی پھول میں

    تیرے معمول میں

    اب بھی موجود ہوں

    غور سے دیکھ لے

    گھر کے روزن سے آتی روپہلی کرن

    اس کو لگتا نہیں گھر کا خالی بدن

    کیا مرے خواب کی کوئی ٹوٹی کڑی

    تیرے بستر پہ ہے بن کے سلوٹ پڑی

    کیا ترے نرم تکیے پہ آنسو مرے

    آج بھی جذب ہیں

    وہ ترے لیمپ کی دودھیا روشنی

    تجھ سے تیری اداسی نہیں پوچھتی

    تیری تنہائی کے خواب ماحول میں

    کھنکھناتی ہے کیا میری پاگل ہنسی

    کیا تری ڈایری کے مہکتے ورق

    میرے بارے میں کچھ بھی نہیں پوچھتے

    کیا کسی حرف نے تجھ کو ٹوکا نہیں

    سیڑھیوں پہ تری

    خوش نما پھول کی

    وہ جو بیلیں تھیں وہ آتے جاتے ہوئے

    کیا ترا راستہ بھی نہیں روکتیں

    مجھ کو سچ سچ بتا

    بے خیالی میں کیا

    میری یادوں کو تو نے رکھا ہو کہیں

    اور ڈھونڈا کہیں

    دل کو کیوں ہے یقیں

    عشق گر بھول جانا بھی چاہے کبھی

    لمس اپنی کہانی نہیں بھولتا

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے