Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

لمس آخری

اختر پیامی

لمس آخری

اختر پیامی

MORE BYاختر پیامی

    نہ رؤو جبر کا عادی ہوں مجھ پہ رحم کرو

    تمہیں قسم مری وارفتہ زندگی کی قسم

    نہ رؤو بال بکھیرو نہ تم خدا کے لیے

    اندھیری رات میں جگنو کی روشنی کی قسم

    میں کہہ رہا ہوں نہ رؤو کہ مجھ کو ہوش نہیں

    یہی تو خوف ہے آنسو مجھے بہا دیں گے

    میں جانتا ہوں کہ یہ سیل بھی شرارے ہیں

    مری حیات کی ہر آرزو جلا دیں گے

    نہ اتنا رؤو یہ قندیل بجھ نہ جائے کہیں

    اسے خود اپنا لہو دے کے میں جلاتا ہوں

    جو ہم نے مل کے اٹھائے تھے وہ محل بیٹھے

    اب اپنے ہاتھ سے مٹی کا گھر بناتا ہوں

    تمہارے واسطے شبنم نچوڑ سکتا ہوں

    زر و جواہر و گوہر کہاں سے لاؤں میں

    تمہارے حسن کو اشعار میں سجا دوں گا

    تمہارے واسطے زیور کہاں سے لاؤں میں

    حسین میز سبک جام قیمتی فانوس

    مجھے یہ شک ہے میں کچھ بھی تو دے نہیں سکتا

    غلام اور یہ شاعر کا جذبۂ آزاد

    میں اپنے سر پہ یہ احسان لے نہیں سکتا

    مجھے یقین ہے تم مجھ کو معاف کر دو گی

    کہ ہم نے ساتھ جلائے تھے زندگی کے کنول

    اب اس کو کیا کروں دشمن کی جیت ہو جائے

    ہمارے سر پہ برس جائے یاس کا بادل

    نہ رؤو دیکھو مری سانس تھرتھراتی ہے

    قریب آؤ میں آنسو تو پونچھ کر دیکھوں

    سنو تو سوئی ہوئی زندگی بھی چیخ اٹھے

    قریب آؤ وہی بات کان میں کہہ دوں

    نہ رؤو میری سیہ بختیوں پہ مت رؤو

    تمہیں قسم مری آشفتہ خاطری کی قسم

    مٹا دو عارض تاباں کے بد نما دھبے

    تمہارے ہونٹوں پہ اس لمس آخری کی قسم

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے