لوٹ چلیے

چندر بھان خیال

لوٹ چلیے

چندر بھان خیال

MORE BYچندر بھان خیال

    سوختہ جاں سوختہ دل

    سوختہ روحوں کے گھر میں

    راکھ گرد آتشیں شعلوں کے سائے

    نقش ہیں دیواروں پر مفروق چہرے

    لوٹ چلیے اپنے سب ارمان لے کر

    جھوٹ ہے گزرا زمانہ

    اور کسی اجڑے قبیلے کی بھٹکتی روح شاید

    اپنے مستقبل کا دھندلا سا تصور

    بحر غم کے درمیاں ہے

    ایک کالے کوہ کی مانند یہ امروز اپنا

    کوہ جس پر رقص کرتے ہیں ستم خوردہ تمناؤں کے آسیب

    لوٹ چلیے

    اپنے سب ارمان لے کر

    سوچیے تو

    یوں عبث آتش کدوں میں کیوں جلیں دل

    کیوں رہیں ہر وقت سینوں پر چٹانیں

    دیکھیے تو

    چند لقمے کچھ کتابیں

    ایک بستر ایک عورت

    اور کرائے کا یہ خالی تنگ کمرا

    آج اپنی زیست کا مرکز ہیں لیکن

    تیرگی کا غم انہیں بھی کھا رہا ہے

    چار جانب زہر پھیلا جا رہا ہے

    لوٹ چلیے

    اپنے سب ارمان لے کر

    اپنے سب پیمان لے کر

    جسم لے کر جان لے کر

    RECITATIONS

    فہد حسین

    فہد حسین,

    فہد حسین

    لوٹ چلیے فہد حسین

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے