لذت آگہی

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    میں عجیب لذت آگہی سے دو چار ہوں

    یہی آگہی مرا لطف ہے مرا کرب ہے

    کہ میں جانتا ہوں

    میں جانتا ہوں کہ دل میں جتنی صداقتیں ہیں

    وہ تیر ہیں

    جو چلیں تو نغمہ سنائی دے

    جو ہدف پہ جا کے لگیں تو کچھ بھی نہ بچ سکے

    کہ صداقتوں کی نفی ہماری حیات ہے

    مرے دل میں ایسی حقیقتوں نے پناہ لی ہے

    کہ جن پہ ایک نگاہ ڈالنا

    سورجوں کو بطون جاں میں اتارنا ہے

    میں جانتا ہوں

    کہ حاکموں کا جو حکم ہے

    وہ دراصل عدل کا خوف ہے

    وہ سزائیں دیتے ہیں

    اور نہیں جانتے

    کہ جتنی سزائیں ہیں

    وہ ستم گری کی ردائیں ہیں

    مجھے علم ہے

    یہی علم میرا سرور ہے یہ علم میرا عذاب ہے

    یہی علم مرا نشہ ہے

    اور مجھے علم ہے

    کہ جو زہر ہے وہ نشے کا دوسرا نام ہے

    میں عجیب لذت آگہی سے دو چار ہوں

    مآخذ:

    • کتاب : Funoon (Monthly) (Pg. 317)
    • Author : Ahmad Nadeem Qasmi
    • مطبع : 4 Maklood Road, Lahore (Issue No. 25Edition Nov. Dec. 1986)
    • اشاعت : Issue No. 25Edition Nov. Dec. 1986

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY