لوری

MORE BYکفیل آزر امروہوی

    اے مرے نور نظر لخت جگر جان سکوں

    نیند آنا تجھے دشوار نہیں ہے سو جا

    ایسے بد بخت زمانے میں ہزاروں ہوں گے

    جن کو لوری بھی میسر نہیں آتی ہوگی

    میری لوری سے تری بھوک نہیں مٹ سکتی

    میں نے مانا کہ تجھے بھوک ستاتی ہوگی

    لیکن اے میری امیدوں کے حسیں تاج محل

    میں تری بھوک کو لوری ہی سنا سکتی ہوں

    تیرا رہ رہ کے یہ رونا نہیں دیکھا جاتا

    اب تجھے دودھ نہیں خون پلا سکتی ہوں

    بھوک تو تیرا مقدر ہے غریبی کی قسم

    بھوک کی آگ میں جل جل کے یہ رونا کیسا

    تو تو عادی ہے اسی طرح سے سو جانے کا

    بھوک کی گود میں پھر آج نہ سونا کیسا

    آج کی رات فقط تو ہی نہیں تیری طرح

    اور کتنے ہیں جنہیں بھوک لگی ہے بیٹے

    روٹیاں بند ہیں سرمائے کے تہہ خانوں میں

    بھوک اس ملک کے کھیتوں میں اگی ہے بیٹے

    لوگ کہتے ہیں کہ اس ملک کے غداروں نے

    صرف مہنگائی بڑھانے کو چھپایا ہے اناج

    ایسے نادار بھی اس ملک میں سو جاتے ہیں

    ہل چلائے ہیں جنہوں نے نہیں پایا ہے اناج

    تو ہی اس ملک میں نادار نہیں ہے سو جا

    اے مرے نور نظر لخت جگر جان سکوں

    نیند آنا تجھے دشوار نہیں ہے سو جا

    مآخذ:

    • کتاب : Dhoop Ka Dareecha (Pg. 132)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY