مدرسہ علی گڑھ

اکبر الہ آبادی

مدرسہ علی گڑھ

اکبر الہ آبادی

MORE BYاکبر الہ آبادی

    خدا علی گڑھ کے مدرسے کو تمام امراض سے شفا دے

    بھرے ہوئے ہیں رئیس زادے امیر زادے شریف زادے

    لطیف و خوش وضع چست و چالاک و صاف و پاکیزہ شاد و خرم

    طبیعتوں میں ہے ان کی جودت دلوں میں ان کے ہیں نیک ارادے

    کمال محنت سے پڑھ رہے ہیں کمال غیرت سے پڑھ رہے ہیں

    سوار مشرق راہ میں ہیں تو مغربی راہ میں پیادے

    ہر اک ہے ان میں کا بے شک ایسا کہ آپ اسے چاہتے ہیں جیسا

    دکھاوے محفل میں قد رعنا جو آپ آئیں تو سر جھکا دے

    فقیر مانگے تو صاف کہہ دیں کہ تو ہے مضبوط جا کما کھا

    قبول فرمائیں آپ دعوت تو اپنا سرمایہ کل کھلا دے

    بتوں سے ان کو نہیں لگاوٹ مسوں کی لیتے نہیں وہ آہٹ

    تمام قوت ہے صرف خواندن نظر کے بھولے ہیں دل کے سادے

    نظر بھی آئے جو زلف پیچاں تو سمجھیں یہ کوئی پالیسی ہے

    الکٹرک لائٹ اس کو سمجھیں جو برق وش کوئی کودے

    نکلتے ہیں کر کے غول بندی بنام تہذیب و درد مندی

    یہ کہہ کے لیتے ہیں سب سے چندے جو تم ہمیں دو تمہیں خدا دے

    انہیں اسی بات پر یقیں ہے کہ بس یہی اصل کار دیں ہے

    اسی سے ہوگا فروغ قومی اسی سے چمکیں گے باپ دادے

    مکان کالج کے سب مکیں ہیں ابھی انہیں تجربے نہیں ہیں

    خبر نہیں ہے کہ آگے چل کر ہے کیسی منزل ہیں کیسے جادے

    دلوں میں ان کے ہیں نور ایماں قوی نہیں ہے مگر نگہباں

    ہوائے منطق ادائے طفلی یہ شمع ایسا نہ ہو بجھا دے

    فریب دے کر نکالے مطلب سکھائے تحقیر دین و مذہب

    مٹا دے آخر کو دین و مذہب نمود ذاتی کو گو بڑھا دے

    یہی بس اکبرؔ کی التجا ہے جناب باری میں یہ دعا ہے

    علوم و حکمت کا درس ان کو پروفیسر دیں سمجھ خدا دے

    مأخذ :
    • کتاب : intekhab-e-sukhan (Pg. 62)
    • Author : Ibne Kanwal
    • مطبع : Kitabi Duniya (2005-2008)
    • اشاعت : 2005-2008

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY