مہارشی سوامی دیانند

چرخ چنیوٹی

مہارشی سوامی دیانند

چرخ چنیوٹی

MORE BYچرخ چنیوٹی

    اوم کا جھنڈا فضاؤں میں اڑاتا آیا

    اسے تہذیب کا سرتاج بناتا آیا

    جس سے ہر قوم کی تقدیر بنا کرتی ہے

    ہمیں اخلاق کا وہ درس سکھاتا آیا

    آتما صاف ہوا کرتی ہے جن جذبوں سے

    مشعل‌ راہ انہی جذبوں کو بناتا آیا

    ہم دیانند کو کہتے ہیں پیمبر لیکن

    خود کو وہ قوم کا سیوک ہی بتاتا آیا

    آریہ ورت کا روشن تریں مینار تھا وہ

    روشنی سارے زمانے کو دکھاتا آیا

    قوم کو شدھی کی تعلیم کا عنواں دے کر

    قوم کو غیر کے پنجے سے چھڑاتا آیا

    بھائی چارے سے محبت سے رواداری سے

    قوم کو جینے کا انداز سکھاتا آیا

    اپنی تہذیب جسے لوگ بھلا بیٹھے تھے

    وید منتر سے وہی یاد دلاتا آیا

    شاستر اور وید کے منتر کا اچارن کر کے

    عہد ماضی کا اک آئینہ دکھاتا آیا

    گھور اندھ کار تھا اگیان کا جاری ہر سو

    گیان اگیان کے انتر کو مٹاتا آیا

    کفر و باطل کے اڑے ہاتھوں کے طوطے اے چرخؔ

    حق پرستی کا وہ یوں ڈنکا بجاتا آیا

    مآخذ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY