محفل شب

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    کتنی ویران ہے یہ محفل شب

    نہ ستارے نہ چراغ

    اک گھنی دھند ہے گردوں پہ محیط

    چاند ہے چاند کا داغ

    پھیلتے جاتے ہیں منظر کے خطوط

    بجھتا جاتا ہے دماغ

    راستے گھل گئے تاریکی میں

    توڑ کر زعم سفر

    کون حد نظر دیکھ سکے

    مٹ گئی حد نظر

    سیکڑوں منزلیں طے کر تو چکے

    لیکن اب جائیں کدھر

    آسماں ہے نہ زمیں ہے شاید

    کچھ نہیں کچھ نہیں

    ان خلاؤں میں پکاریں تو کسے

    کوئی سنتا ہی نہیں

    ایک دنیا تو ہے یہ بھی لیکن

    اپنی دنیا سی نہیں

    دوستو آؤ قریب آ جاؤ

    آ کے دیکھو تو سہی

    ایک حلقے میں بجھی آنکھوں کو

    لا کے دیکھو تو سہی

    شاید آواز پہ آواز آئے!

    دے کے دیکھو تو سہی

    مآخذ:

    • کتاب : kulliyat-e-ahmad nadiim qaasmii (Pg. 260)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY