میں کچھ بھی کہہ نہ پایا

احمد حاطب صدیقی

میں کچھ بھی کہہ نہ پایا

احمد حاطب صدیقی

MORE BYاحمد حاطب صدیقی

    تانگے کا ایک گھوڑا

    لنگڑا تھا تھوڑا تھوڑا

    پوچھا جو میں نے اس سے

    کیا پاؤں میں ہے پھوڑا

    بولا یہ ظلم مجھ پر

    اک آدمی نے توڑا

    پہلے تو اس نے مجھ کو

    تانگے میں لا کے جوڑا

    پھر اس کو خوب بھر کر

    بولا کہ چل منوڑا

    جب میں کھسک نہ پایا

    لہرایا اس نے کوڑا

    مارا مجھے تڑاتڑ

    پھر دم کو بھی مروڑا

    میں بلبلا کے بھاگا

    بس بن گیا بھگوڑا

    خود بھی گرا پھسل کر

    ایک اک کا سر بھی پھوڑا

    اس دن سے آج تک میں

    لنگڑا ہوں تھوڑا تھوڑا

    یہ داستاں سنا کر

    بولا وہ ہنہنا کر

    میں نے تو منو بھائی

    طبیعت ہے سادہ پائی

    خود اپنے منہ سے اپنی

    کرتا نہیں بڑائی

    قرآن پاک نے بھی

    میری قسم ہے کھائی

    گر تیسواں سپارہ

    تم نے پڑھا ہو بھائی

    والعادیات ضبحاً میں

    بات ہے یہ آئی

    انساں تو اپنے رب سے

    کرتا ہے بے وفائی

    بس مال و زر کے پیچھے

    ہے زندگی گنوائی

    گھوڑوں نے مالکوں پر

    ہے جان بھی لٹائی

    ہم لوگ ہنستے گاتے

    ہر بوجھ ہیں اٹھاتے

    ہیں جانور ہمیشہ

    انساں کے کام آتے

    ماحول کی کشش بھی

    ہم لوگ ہیں بڑھاتے

    دل کش پرند پیارے

    شاخوں پہ چہچہاتے

    سارے نمازیوں کو

    ہر صبح ہیں جگاتے

    پھر خود بھی اپنے رب کی

    حمد و ثنا ہیں گاتے

    سو سو طرح تمہارا

    ہم دل بھی ہیں لبھاتے

    کچھ ایسے ہیں کہ جن سے

    تم ہو دوا بناتے

    کچھ اون تم کو دے کر

    سردی سے ہیں بچاتے

    کچھ دودھ تم کو دیتے

    کچھ گوشت ہیں کھلاتے

    گر جانور نہ ہوتے

    تم گھی کدھر سے لاتے

    مکھن پنیر انڈے

    آخر کہاں سے کھاتے

    بس کیا کہوں کہ کیا کیا

    ہیں فائدے اٹھاتے

    پھر بھی ہیں لوگ ہم کو

    ہر طرح سے ستاتے

    یہ بات کہتے کہتے

    دکھڑا یہ سب سناتے

    ایسا وہ بلبلایا

    میں کچھ بھی کہہ نہ پایا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY