میں نشے میں ہوں

سید محمد جعفری

میں نشے میں ہوں

سید محمد جعفری

MORE BYسید محمد جعفری

    ہڑتال کرنے سے نہ ٹلو میں نشے میں ہوں

    اے غیر ملکیوں کی کلو میں نشے میں ہوں

    میرا جلوس لے کے چلو میں نشے میں ہوں

    پھر خاک سب کے منہ پہ ملو میں نشے میں ہوں

    ''یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں''

    ''اب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں''

    گھوڑے پہ میں سوار ہوں سنتے ہو پیدلو

    مجھ پر سوار نشہ ہے میں اس کے ہوں جلو

    جلسوں میں جب بھی جاؤ مجھے ساتھ لے چلو

    اور خالی خولی نعروں سے پھر مونگ بھی دلو

    ''ایک ایک فرط دور میں یوں ہی مجھے بھی دو''

    ''جام شراب پر نہ کرو میں نشے میں ہوں''

    اس قوم کی فلاح ہے جام و سبو کے بیچ

    تم انتخاب جا کے لڑو ہاؤ ہو کے بیچ

    دشنام اور بلووں کے اور دو بہ دو کے بیچ

    جیسے کہ کوئی بیٹھا ہو بزم عدو کے بیچ

    ''مستی سے درہمی ہے مری گفتگو کے بیچ''

    ''جو چاہو تم بھی مجھ کو کہو میں نشے میں ہوں''

    میں رہنمائے قوم ہوں، یہ ہو چکا ہے طے

    کھاتا رہا ہوں گالیاں ماضی میں پے بہ پے

    گزری ہے عمر جیل میں لیکن یہ تا بہ کے

    میرا جلوس لے کے مری قوم جب چلے

    ''یا ہاتھوں ہاتھ لو مجھے مانند جام مے''

    ''یا تھوڑی دور ساتھ چلو میں نشے میں ہوں''

    مجھ پر بھی وقت آ کے پڑے ہیں یہاں کڑے

    یہ وہ زمیں ہے جس پہ گرے ہیں بڑے بڑے

    تم کیوں اکھاڑتے ہو وہ مردے جو ہیں گڑے

    دیکھے نہیں ہیں تم نے جو چکنے تھے وہ گھڑے

    ''معذور ہوں جو پاؤں مرا بے طرح پڑے''

    ''تم سرگراں تو مجھ سے نہ ہو میں نشے میں ہوں''

    یہ بات عقل میں بھی سماتی نہیں ہے کچھ

    شہرت تو مفت ووٹ دلاتی نہیں ہے کچھ

    ایمانداری کام بناتی نہیں ہے کچھ

    لٹھ کی زبان بھی مجھے آتی نہیں ہے کچھ

    بھاگی تمہاری رائے تو جاتی نہیں ہے کچھ

    ''چلتا ہوں میں بھی، ٹک تو رہو، میں نشے میں ہوں

    آیا ہے وقت ایسا جو پہلے نہ تھا کبھی

    دشوار راستہ بھی ہے منزل ہے دور ابھی

    پبلک سے جھوٹے وعدے بھی کر لیتے ہیں سبھی

    میں نے بھی اختیار کی یہ پالیسی جبھی

    ''نازک مزاج آپ قیامت ہیں میرؔ جی''

    ''جوں شیشہ میرے منہ نہ لگو میں نشے میں ہوں''

    بدمست ہو گئے ہو الیکشن میں جعفریؔ

    سر میں نشے کے ساتھ ہے سودائے رہبری

    تم کس جگہ کے پنچ ہو کیا ہے برادری

    کیوں ڈھونڈتے ہو ملک میں جو ووٹ ہو فری

    تم ہوش میں نہیں ہو تو ہے بات دوسری

    یہ کہہ کے گھر میں بیٹھ رہو میں نشے میں ہوں

    مآخذ:

    • کتاب : Teer-e-Neem Kash (Pg. 169)
    • Author : Sayed Mohammad Jafri
    • مطبع : Sang-e-Meel Publications, Lahore (P.k.) (2007)
    • اشاعت : 2007

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY