مرحوم اور محروم

زبیر علی تابش

مرحوم اور محروم

زبیر علی تابش

MORE BYزبیر علی تابش

    مری حیات یہ ہے اور یہ تمہاری قضا

    زیادہ کس سے کہوں اور کس کو کم بولو

    تم اہل خانہ رہے اور میں یتیم ہوا

    تمہارا درد بڑا ہے یا میرا غم بولو

    تمہارا دور تھا گھر میں بہار ہنستی تھی

    ابھی تو در پہ فقط رنج و غم کی دستک ہے

    تمہارے ساتھ کا موسم بڑا حسین رہا

    تمہارے بعد کا موسم بڑا بھیانک ہے

    ہزاروں قرض تھے مجھ پر تمہاری الفت کے

    مجھے وہ قرض چکانے کا موقع تو دیتے

    تمہارا خون مرے جسم میں مچلتا رہا

    ذرا سے قطرے بہانے کا موقع تو دیتے

    بڑے سکون سے تم سو گئے وہاں جا کر

    یہ کیسے نیند تمہیں آ گئی نئے گھر میں

    ہر ایک شب میں فقط کروٹیں بدلتا ہوں

    تمہاری قبر کے کنکر ہوں جیسے بستر میں

    میں بوجھ کاندھوں پہ ایسے اٹھا کے چلتا ہوں

    تمہارا جیسے جنازہ اٹھا کے چلتا تھا

    یہاں پہ میری پریشانی صرف میری ہے

    وہاں کوئی نہ کوئی کاندھا تو بدلتا تھا

    تمہاری شمع تمنا بس ایک رات بجھی

    چراغ میری توقع کے روز بجھتے ہیں

    میں سانس لوں بھی تو کیسے کہ میری سانسوں میں

    تمہاری ڈوبتی سانسوں کے تیر چبھتے ہیں

    میں جب بھی چھوتا ہوں اپنے بدن کی مٹی کو

    تو لمس پھر اسی ٹھنڈے بدن کا ہوتا ہے

    لباس روز بدلتا ہوں میں بھی سب کی طرح

    مگر خیال تمہارے کفن کا ہوتا ہے

    بہت طویل کہانی ہے میری ہستی کی

    تمہاری موت تو اک مختصر فسانہ ہے

    وہ جس گلی سے جنازہ تمہارا نکلا تھا

    اسی گلی سے مرا روز آنا جانا ہے

    میں کوئی راہ ہوں تم راہ دیکھنے والے

    کہ منتظر تو مرا پر نہ انتظار مرا

    تمہاری موت مری زندگی سے بہتر ہے

    تم ایک بار مرے میں تو بار بار مرا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    زبیر علی تابش

    زبیر علی تابش

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY