موسم

MORE BYسرمد صہبائی

    موسم تو ہر سال اس شہر میں آتے ہیں

    ہرے بھرے مٹیالے موسم

    لیکن ان کی گود میں ہم اس موسم کی

    کونپل ڈھونڈتے رہتے ہیں

    جو سانسوں کے رس کو چھو کر جسموں کے بل پر تک چڑھ آتی ہے

    جس کی اوک میں پیاسی خواہش

    ساری رتوں کے رنگ اور ذائقے

    چکھ لیتی ہے

    جیسے گہرے بادل کی آغوش میں بارش

    اور بہتے دریاؤں کی پاتال میں موتی

    ایسے ہی ہم دونوں کی بے تاب کشش سے

    اک یہ موسم چھا جاتا ہے

    موسم جس کے دھانی کپڑے

    لذت کی خوشبو سے تر ہیں

    جس کے کھلے ہوئے موسم میں

    جنگلی تیتریوں کے پر ہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے