میری زمیں

شہریار

میری زمیں

شہریار

MORE BYشہریار

    زنجیروں میں جکڑے ہوئے قیدی کی صورت

    ریگ کے سیل میں ایک بگولہ

    ہانپ رہا ہے

    اپنے وجود سے خوف زدہ ہے

    گرد و غبار خواب سے

    دھند کا ننھا نقطہ پھیل رہا ہے

    اور افق اس کی زد میں ہے

    میری آنکھیں دشت خلا میں

    نور کی ایک لکیر کو بنتا دیکھ رہی ہیں

    لیکن میں یہ سوچ رہا ہوں

    میری زمیں کس کی حد میں ہے

    مآخذ
    • کتاب : sooraj ko nikalta dekhoon (Pg. 243)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY