محبت اپنا زائچہ نکلوانا چاہتی ہے

عذرا عباس

محبت اپنا زائچہ نکلوانا چاہتی ہے

عذرا عباس

MORE BYعذرا عباس

    صبح اٹھتے ہی ضد کرتی ہے

    اور مجھے دھونس دیتی رہتی ہے

    اگر ایسا نہیں کیا

    تو میں نفرت سے دوستی کر لوں گی

    اور یہ دل جو ایک کونے میں سکڑا پڑا ہے

    فریاد کرتا رہ جائے گا

    مجھے اس پر ترس آتا ہے

    تم جلدی سے میرا زائچہ نکالو

    اور دیکھو

    مجھے کب تک تمہارے ساتھ رہنا ہے

    تم کب تک مجھے گھسیٹو گی

    کب تک میں تمہاری قید جھیلوں گی

    ہر چیز کی انتہا ہوتی ہے

    مجھے اب اس خول میں نہیں رہنا

    مجھے جانے دو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY