محبت لفظ تھا میرا

عرش صدیقی

محبت لفظ تھا میرا

عرش صدیقی

MORE BY عرش صدیقی

    میں اس شہر خرابی میں فقیروں کی طرح در در پھرا برسوں

    اسے گلیوں میں سڑکوں پر

    گھروں کی سرد دیواروں کے پیچھے ڈھونڈھتا تنہا

    کہ وہ مل جائے تو تحفہ اسے دوں اپنی چاہت کا

    تمنا میری بر آئی کہ اک دن ایک دروازہ کھلا اور

    میں نے دیکھا وہ شناسا چاند سا چہرہ

    جو شادابی میں گلشن تھا

    میں اک شان گدایانہ لیے اس کی طرف لپکا

    تو اس نے چشم بے پروا کے ہلکے سے اشارے سے مجھے روکا

    اور اپنی زلف کو ماتھے پہ لہراتے ہوئے پوچھا

    کہو اے اجنبی سائل

    گدائے بے سر و ساماں

    تمہیں کیا چاہیے ہم سے

    میں کہنا چاہتا تھا عمر گزری جس کی چاہت میں

    وہی جب مل گیا تو اور اب

    کیا چاہے مجھ کو

    مگر تقریر کی قوت نہ تھی مجھ میں

    فقط اک لفظ نکلا تھا لبوں سے کانپتا ڈرتا

    جسے امید کم تھی اس کے دل میں بار پانے کی

    محبت لفظ تھا میرا

    مگر اس نے سنا روٹی

    مآخذ:

    • Book: Muntakhab Shahkar Nazmon Ka Album) (Pg. 367)
    • Author: Munavvar Jameel
    • مطبع: Haji Haneef Printer Lahore (2000)
    • اشاعت: 2000

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites