محبتوں کا یہ طور سینا

نجمہ شاہین کھوسہ

محبتوں کا یہ طور سینا

نجمہ شاہین کھوسہ

MORE BYنجمہ شاہین کھوسہ

    سنو مسافر

    یہ دل صحیفہ سہی مگر اس پہ چاہتوں کی

    کوئی کہانی رقم نہ ہوگی

    کہ چاہتوں کی ہر اک کہانی اداس آنکھوں سے جھانکتی ہے

    اداس چہروں پہ ہی رقم ہے

    سو میری مانو تو دل صحیفے کو گزرے وقتوں کی داستانوں سے ہی سجاؤ

    یہ دل کی زرخیز جو زمیں ہے

    تم اس پہ خوشیوں کے رنگ کاڑھو

    اسے گلابوں سے ہی سجاؤ

    سنو مسافر

    محبتوں کا یہ طور سینا

    بھٹکتے رہنے کا راستہ ہے

    بہت بلندی پہ جانے والوں کو منزلوں کی خبر نہیں ہے

    کئی مسافر بھٹک چکے ہیں

    کہ ان کو رستے جھٹک چکے ہیں

    ہر اک مسافر کے راستے میں نہ کوئی جنت نہ کوئی دوزخ

    اگر ملا بھی کسی کو کچھ تو

    ملا ہے بس ہجر کا ہی برزخ

    ہاں کچھ مسافر جو طور سینا کی عشق منزل پہ جا کے ٹھہرے

    انہیں بھی مایوسیاں ملی تھیں

    انہیں تجلی نہیں ملی تھی

    کوئی تسلی نہیں ملی تھی

    سو وہ محبت کی آیتوں کے بغیر لوٹے

    عنایتوں کے بغیر لوٹے

    سو اے مسافر

    مری جو مانو تو لوٹ آؤ

    یہ دل صحیفہ سہی مگر

    اس پہ چاہتوں کی کوئی کہانی رقم نہ ہوگی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY