محبان وطن کا نعرہ

آنند نرائن ملا

محبان وطن کا نعرہ

آنند نرائن ملا

MORE BYآنند نرائن ملا

    شہید جور گلچیں ہیں اسیر خستہ تن ہم ہیں

    ہمارا جرم اتنا ہے ہوا خواہ چمن ہم ہیں

    ستانے کو ستا لے آج ظالم جتنا جی چاہے

    مگر اتنا کہے دیتے ہیں فرداے وطن ہم ہیں

    ہمارے ہی لہو کی بو صبا لے جائے گی کنعاں

    ملے گا جس سے یوسف کا پتہ وہ پیرہن ہم ہیں

    ہمیں یہ فخر حاصل ہے پیام نور لائے ہیں

    زمیں پہلے پہل چومی ہے جس نے وہ کرن ہم ہیں

    سلا لے گی ہمیں خاک وطن آغوش میں اپنی

    نہ فکر گور ہے ہم کو نہ محتاج کفن ہم ہیں

    بنا لیں گے ترے زنداں کو بھی ہم غیرت محفل

    لیے اپنی نگاہوں میں جمال انجمن ہم ہیں

    نہیں تیشہ تو سر ٹکرا کے جوئے شیر لائیں گے

    بیابان جنوں میں جانشین کوہ کن ہم ہیں

    زمانہ کر رہا ہے کوششیں ہم کو مٹانے کی

    ہلا پاتا نہیں جس کو وہ بنیاد کہن ہم ہیں

    نہ دولت ہے نہ ثروت ہے نہ عہدہ ہے نہ طاقت ہے

    مگر کچھ بات ہے ہم میں کہ جان انجمن ہم ہیں

    ترے خنجر سے اپنے دل کی طاقت آزمانا ہے

    محبت ایک اپنی ہے ترا سارا زمانہ ہے

    فدائے ملک ہونا حاصل قسمت سمجھتے ہیں

    وطن پر جان دینے ہی کو ہم جنت سمجھتے ہیں

    کچھ ایسے آ گئے ہیں تنگ ہم کنج اسیری سے

    کہ اب اس سے تو بہتر گوشۂ تربت سمجھتے ہیں

    ہمارے شوق کی وارفتگی ہے دید کے قابل

    پہنچتی ہے اگر ایذا اسے راحت سمجھتے ہیں

    نگاہ قہر کی مشتاق ہیں دل کی تمنائیں

    خط چین جبیں ہی کو خط قسمت سمجھتے ہیں

    وطن کا ذرہ ذرہ ہم کو اپنی جاں سے پیارا ہے

    نہ ہم مذہب سمجھتے ہیں نہ ہم ملت سمجھتے ہیں

    حیات عارضی صدقے حیات جاودانی پر

    فنا ہونا ہی اب اک زیست کی صورت سمجھتے ہیں

    ہمیں معلوم ہے اچھی طرح تاب جفا تیری

    مگر اس سے سوا اپنی حد الفت سمجھتے ہیں

    غم و غصہ دکھانا اک دلیل ناتوانی ہے

    جو ہنس کر چوٹ کھاتی ہے اسے طاقت سمجھتے ہیں

    غلامی اور آزادی بس اتنا جانتے ہیں ہم

    نہ ہم دوزخ سمجھتے ہیں نہ ہم جنت سمجھتے ہیں

    دکھانا ہے کہ لڑتے ہیں جہاں میں با وفا کیوں کر

    نکلتی ہے زباں سے زخم کھا کر مرحبا کیوں کر

    مآخذ
    • کتاب : Kulliyat-e-Anand Narayan Mulla (Pg. 76)
    • Author : Anand Narayan Mull
    • مطبع : Qaumi Council Baraye-farogh Urdu (2010)
    • اشاعت : 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY