مجھے رستہ نہیں ملتا

عباس تابش

مجھے رستہ نہیں ملتا

عباس تابش

MORE BYعباس تابش

    مجھے رستہ نہیں ملتا

    میں جوہڑ میں کھلے پھولوں کے حق میں بول کر

    دلدل کی تہہ میں دھنس گیا ہوں

    میں نہیں کہتا کہ یہ کس آسماں کا کون سا سیارۂ بد ہے

    مگر یہ تہہ زمیں کی آخری چھت ہے

    یہاں دن ہی نکلتا ہے نہ شام عمر ڈھلتی ہے

    پرندہ بھی نہیں کوئی کہ جس کے پاؤں سے کوئی

    نوشتہ باندھ کر بھیجوں تو سمجھوں اس سے ملنے کا

    بہانہ ہاتھ آیا ہے

    ستارہ بھی نہیں کوئی کہ جس سے گفتگو ٹھہرے

    نواح جسم میں پھیلی خضر آثار تنہائی مری سانسیں بڑھاتی ہے

    مجھے اس دلدلی گوشے سے جانے کا کوئی رستہ نہیں ملتا

    سن اے میری خضر آثار تنہائی

    مری خاطر بھی تھوڑا سا تردد کر

    مجھے بھی تو سکندرؔ کے جنازے میں پہنچنا ہے

    مجھے بھی آب حیواں سے چھلکتی موت کا نوحہ سنانا ہے

    مجھے بھی دور جانا ہے

    سن اے میری خضر آثار تنہائی

    مجھے اس تخم امکاں کے دریچے سے نکلنے دے

    نمو کی چال چلنے دے

    مجھے رستہ نہیں ملتا

    مأخذ :
    • کتاب : Ishq Abaad (kulliyat) (Pg. 175)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY