ملاقات

فیض احمد فیض

ملاقات

فیض احمد فیض

MORE BYفیض احمد فیض

    INTERESTING FACT

    منٹگلری جیل۔12اکتوبر ۔3نومبر1953

    یہ رات اس درد کا شجر ہے

    جو مجھ سے تجھ سے عظیم تر ہے

    عظیم تر ہے کہ اس کی شاخوں

    میں لاکھ مشعل بکف ستاروں

    کے کارواں گھر کے کھو گئے ہیں

    ہزار مہتاب اس کے سائے

    میں اپنا سب نور رو گئے ہیں

    یہ رات اس درد کا شجر ہے

    جو مجھ سے تجھ سے عظیم تر ہے

    مگر اسی رات کے شجر سے

    یہ چند لمحوں کے زرد پتے

    گرے ہیں اور تیرے گیسوؤں میں

    الجھ کے گلنار ہو گئے ہیں

    اسی کی شبنم سے خامشی کے

    یہ چند قطرے تری جبیں پر

    برس کے ہیرے پرو گئے ہیں

    ۲

    بہت سیہ ہے یہ رات لیکن

    اسی سیاہی میں رونما ہے

    وہ نہر خوں جو مری صدا ہے

    اسی کے سائے میں نور گر ہے

    وہ موج زر جو تری نظر ہے

    وہ غم جو اس وقت تیری بانہوں

    کے گلستاں میں سلگ رہا ہے

    وہ غم جو اس رات کا ثمر ہے

    کچھ اور تپ جائے اپنی آہوں

    کی آنچ میں تو یہی شرر ہے

    ہر اک سیہ شاخ کی کماں سے

    جگر میں ٹوٹے ہیں تیر جتنے

    جگر سے نوچے ہیں اور ہر اک

    کا ہم نے تیشہ بنا لیا ہے

    ۳

    الم نصیبوں جگر فگاروں

    کی صبح افلاک پر نہیں ہے

    جہاں پہ ہم تم کھڑے ہیں دونوں

    سحر کا روشن افق یہیں ہے

    یہیں پہ غم کے شرار کھل کر

    شفق کا گلزار بن گئے ہیں

    یہیں پہ قاتل دکھوں کے تیشے

    قطار اندر قطار کرنوں

    کے آتشیں ہار بن گئے ہیں

    یہ غم جو اس رات نے دیا ہے

    یہ غم سحر کا یقیں بنا ہے

    یقیں جو غم سے کریم تر ہے

    سحر جو شب سے عظیم تر ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    فیض احمد فیض

    فیض احمد فیض

    ضیا محی الدین

    ضیا محی الدین

    RECITATIONS

    فیض احمد فیض

    فیض احمد فیض

    فیض احمد فیض

    ملاقات فیض احمد فیض

    مآخذ:

    • کتاب : Nuskha Hai Wafa (Pg. 248)

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY