ناداروں کی عید

نشور واحدی

ناداروں کی عید

نشور واحدی

MORE BYنشور واحدی

    زردار نمازی عید کے دن کپڑوں میں چمکتے جاتے ہیں

    نادار مسلماں مسجد میں جاتے بھی ہوئی شرماتے ہیں

    ملبوس پریشاں دل غمگیں افلاس کے نشتر کھاتے ہیں

    مسجد کے فرشتے انساں کو انسان سے کمتر پاتے ہیں

    قرآں سے دھواں سا اٹھتا ہے ایمان کا سر جھک جاتا ہے

    تسبیح سے اٹھتے ہیں شعلے سجدوں کو پسینہ آتا ہے

    وہ واسطہ جس کو فاقوں روزے روزے بے بیچارہ کیا رکھے

    دن دیکھ چکا شب دیکھ چکا قسمت کا سہارا کیا رکھے

    خالی ہوں لہو سے جس کی رگیں وہ دل کا شرارہ کیا رکھے

    ایمان کی لذت دیں کا بھرم افلاس کا مارا کیا رکھے

    تاریک دکھائی دیتی ہے دنیا یہ مہ و خورشید اسے

    روزی کا سہارا ہو جس دن وہ روز ہے روز عید اسے

    اک مادر مفلس عید کے دن بچوں کو لئے بہلاتی ہے

    سر ان کا کبھی سہلاتی ہے نرمی سے کبھی سمجھاتی ہے

    قسمت پہ کبھی جھنجھلاتی ہے جینے سے کبھی تنگ آتی ہے

    زردار پڑوسن خوش ہو کر سب دیکھتی ہے اور کھاتی ہے

    پیسے کا پجاری دنیاں میں سچ پوچھو تو انساں ہو نہ سکا

    دولت کبھی ایماں لا نہ سکی سرمایہ مسلماں ہو نہ سکا

    نوخیز دلہن اور عید کا دن کپڑوں سے نمایاں بد حالی

    کمہلائے ہوئے سے غنچے تر مرجھائی ہوئی سی ہریالی

    سوکھا ہوا چہرہ غربت سے اتری ہوئی ہونٹوں کی لالی

    مایوس نظر ٹوٹا ہوا دل اور ہاتھ بھی پیسے سے خالی

    شوہر کی نظر حسرت سے بھری اٹھتی ہے تو خود جھک جاتی ہے

    احساس محبت کی دنیاں اس منظر سے تھراتی ہے

    خوں چوس رہا ہے پودوں کا اک پھول جو خنداں ہوتا ہے

    پامال بنا کر سبزوں کو اک سرو خراما ہوتا ہے

    چربی مل کر انسانوں کی اک چہرہ درخشاں ہوتا ہے

    یہ عید کے جلوے بنتے ہیں جب خون غریباں ہوتا ہے

    مفلس کی جوانی عید کے دن جب صبح سے آہیں بھرتی ہے

    دنیا یہ امیروں کی دنیا تب عید کی خوشیاں کرتی ہے

    مآخذ
    • کتاب : Nushoor Wahedi Veyaktitiva Chhaya Aur Shayri (Urdu Poetry) (Pg. 135)
    • Author : Niaz wahedi
    • مطبع : Niaz wahedi (2003)
    • اشاعت : 2003

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY