نئے سال کی صبح

سوہن راہی

نئے سال کی صبح

سوہن راہی

MORE BY سوہن راہی

    روح انساں کی جواں تشنہ لبی کی خاطر

    زنگ آلود تمناؤں کی زنجیر لیے

    پھر سحر رات کے زنداں سے نکل آئی ہے

    صبح لائی ہے اجالوں کا چھلکتا ہوا جام

    رات کی آنکھوں سے ٹپکا ہے ستاروں کا لہو

    تیرہ و تار فضا ڈوب گئی ہے خود میں

    دور سورج کی سلگتی ہوئی آہوں سے پرے

    میری ہر فکر کی ہر سوچ کی راہوں سے پرے

    دل کی آنکھوں سے پرے میری نگاہوں سے پرے

    پھر وہی فکر سفر فکر طلب فکر زوال

    پھر وہی تیز مسائل وہی خونخوار سوال

    پھر سیہ پوش تصور کا سیہ پوش کمال

    پھر اٹھائے ہیں تمناؤں نے خوابوں کے کفن

    پھر وہی پیٹ کے مانوس تقاضوں کی چبھن

    پھر لہو روتی ہے افلاس کی مدقوق دلہن

    روح انساں کی جواں تشنہ لبی کی خاطر

    زنگ آلود تمناؤں کی زنجیر لیے

    پھر سحر رات کے زنداں سے نکل آئی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY