نفی سارے حسابوں کی

راجیندر منچندا بانی

نفی سارے حسابوں کی

راجیندر منچندا بانی

MORE BYراجیندر منچندا بانی

    لپکتا سرخ امکاں

    جو مجھے آئندہ کی

    دہلیز پر لا کر کھڑا کرنے کی خواہش میں

    مچلتا ہے

    مرے ہاتھوں کو چھو کر

    مجھ سے کہتا ہے

    تمہاری انگلیوں میں

    خون کم کیوں ہے

    تمہارے ناخنوں میں زردیاں کس نے سجائی ہیں

    کلائی سے

    نکلتی ہڈیوں پر

    اون کم کیوں ہے

    میں اس سے

    ناتواں سی اک صدا میں

    پوچھتا ہوں

    اس سے پہلے تم کہاں تھے

    اس سے پہلے بھی یہی ساری زمینیں تھیں

    یہی سب آسماں تھے

    اور میری آنکھ میں

    نیلے، ہرے کے درمیاں

    اک رنگ شاید اور بھی تھا

    اب مرے اندر نہ جھانکو

    میرے باطن میں مسلسل تیرتی ہے اونگھتی دنیا سرابوں کی

    نفی سارے حسابوں کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY