نفی سے اثبات تک

شہریار

نفی سے اثبات تک

شہریار

MORE BYشہریار

    رات کا یہ سمندر تمہارے لیے

    تم سمندر کی خاطر بنے ہو

    دلوں میں کبھی خشکیوں کی سحر کا تصور نہ آئے

    اسی واسطے تم کو بے بادباں کشتیاں دی گئی ہیں

    سفر رات کے اس سمندر کی گہرائیوں کا سفر بیکراں ہے

    اکیلے ہو تم اور اکیلے رہوگے

    مگر آسماں کی جگہ آسماں اور زمیں کی جگہ یہ زمیں

    تم سے قائم ہے

    دائم ہے یہ رات

    اور رات کے تم امیں ہو

    اگر آنکھ میں نور کا کوئی منظر ہے

    اس کی حفاظت کرو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY