Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نیا ادب

اختر پیامی

نیا ادب

اختر پیامی

MORE BYاختر پیامی

    ہاں تو میں آپ سے کہتا تھا جناب

    زندگی جبر کی پابند نہیں رہ سکتی

    اور ندی اسی دھارے پہ نہیں بہہ سکتی

    جس میں ماضی کی چتاؤں کے سوا

    جس میں مرگھٹ کی ہواؤں کے سوا

    اور تو کچھ بھی نہیں کچھ بھی نہیں ہے شاید

    آپ بیکار مری بات پہ جھنجھلاتے ہیں

    کون کہتا ہے کہ ماضی کو برا کہتا ہوں

    میں کہوں یہ کسی دشمن نے اڑائی ہوگی

    میں تو کہتا ہوں کہ تاریخ کے سینے سے شرارے لے کر

    اپنی دنیا کے خس و خار جلا ہی دوں گا

    زندگی کے سبھی اقدار سمجھ لیتا ہوں

    میرؔ اور دردؔ کے اشعار سمجھ لیتا ہوں

    میں نے اس شمع کی لو اور بڑھا ہی دی ہے

    اپنے ماحول میں غالب نے جلایا تھا جسے

    میں تو اقبال کی عظمت کی قسم کھاتا ہوں

    آپ بیکار مری بات پہ جھنجھلاتے ہیں

    بات اتنی ہے کہ میں ان کی ہی بنیادوں پر

    اک نئے عہد کی تقدیر بنانے کے لئے

    اک نئے وقت کی تصویر بنانے کے لئے

    کچھ نئے ساز بجا لیتا ہوں

    میں پجاری ہوں محبت کے اصولوں کا مگر

    عشقیہ شعر مجھے یاد نہیں

    جن میں سیٹھوں کو نوابوں کو مزا آتا ہے

    جن کو پازیب کی جھنکار نگل جاتی ہے

    مجھ کو مصنوعی محبت نہیں بھاتی لیکن

    میں نے انسان کی پستی کا نشاں دیکھ لیا

    کارخانوں کا دھواں دیکھ لیا

    سیکڑوں سائے بھٹکتے ہوئے لرزاں ترساں

    بال الجھے ہوئے ماتھے پہ لکیریں رقصاں

    اپنے کاندھے پہ اٹھائے ہوئے تاریخ کا بوجھ

    اپنے ہاتھوں سے چلاتے ہوئے تہذیب کی ناؤ

    بھوک سے پاؤں تو اٹھتے نہیں پر اٹھتے ہیں

    اور مالک کی تجوری ہے بھری جاتی ہے

    ایک مالک کے ہزاروں ہیں غلام

    جس طرح سیکڑوں بندوں کا فقط ایک خدا

    اور اسی ایک ہی مالک کا وجود

    اور اسی ایک خدا کا پیکر

    ہاں تو میں آپ سے کہتا تھا جناب

    لیجئے آپ تو منہ پھر چکے سو بھی گئے

    مأخذ :
    • کتاب : Aina Khane (Pg. 78)
    • Author : Akhtar payami
    • مطبع : Zain Publications (2004)
    • اشاعت : 2004
    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے