نیا سال

اختر پیامی

نیا سال

اختر پیامی

MORE BY اختر پیامی

    پھر نیا سال دبے پاؤں چلا آیا ہے

    اور مٹتے ہوئے مدھم سے نقوش

    دور ماضی کی خلاؤں میں نظر آتے ہیں

    جیسے چھوڑی ہوئی منزل کا نشاں

    جیسے کچھ دور سے آتی ہوئی آواز جرس

    کون سہمے ہوئے مایوس دیوں کو دیکھے

    پھر بھی یہ مجھ کو خیال آتا ہے

    کتنی نوخیز امیدوں کو سہارے نہ ملے

    کتنی ڈوبی ہوئی کشتی کو کنارے نہ ملے

    زلف لہرائی پہ ساون کی گھٹا بن نہ سکی

    صبح ہنستی رہی بجھتے رہے کتنے چہرے

    چوڑیاں ٹوٹ گئیں مانگ کے سیندور اجڑے

    گود ویران ہوئی

    نغمے تخلیق ہوئے ہونٹ سلے

    کتنے فن پاروں کے انبار لگے

    شاہراہوں پہ جلانے کے لئے

    آشیانے کا تصور ہی ابھی آیا تھا

    بجلیاں کوند گئیں

    ہیروشیما چیخ اٹھا

    کتنا پر ہول سماں

    کتنی بھیانک تاریخ

    یہ مہ و سال کے پھیلے ہوئے جال

    پھر نیا سال دبے پاؤں چلا آیا ہے

    روز و شب جیسے اندھیرے میں لٹیروں کے گروہ

    اپنی تاریک کمیں گاہوں میں چھپ کر بیٹھیں

    اور داماندہ سارا ہی کوئی

    اجنبی راہوں سے ڈرتا ہوا گھبرایا ہوا

    اپنی کوئی ہوئی منزل کی طرف جاتا ہو

    اور لٹیرے اسے تنہا پا کر

    اس کے سینے کا لہو لے لیں امیدوں کے دیے بجھ جائیں

    کون لیکن دل انساں کی تپش چھین سکے

    پھر نیا سال دبے پاؤں چلا آیا ہے

    کتنی باریک ہے یہ صبح کی پہلی کرن

    کون جانے کہ نئی دام بھی کیا لائے گی

    کان میں آج بھی مانوس صدا آتی ہے

    وہی ڈالر کا طلسم

    وہی تہذیب و تمدن کے پرانے دعوے

    وہی پسماندہ ممالک کی ترقی کا فریب

    وہی تاریخ سیاست کے پرانے شاطر

    ایٹمی جنگ کا اعلان کیا کرتے ہیں

    کون لیکن دل انساں کی تپش چھین سکے

    ارتقا آہن و فولاد سے کس طرح رکے

    ٹوٹ جائیں گے مہ و سال کے پھیلے ہوئے جال

    پھر نیا سال دبے پاؤں چلا آتا ہے

    جاؤ تاریک مکانوں میں چراغاں کر دو

    آج زنجیر کی اک اور کڑی ٹوٹ گئی

    آج دنیا کے عوام

    اپنے سینے سے لگائے ہوئے اپنی تاریخ

    اپنے ہاتھوں میں نئے عہد کا فرمان لئے

    اک نئی راہ پہ بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں

    روز و شب جیسے اندھیرے میں لٹیروں کے گروہ

    ہاتھ باندھے ہوئے قدموں پہ جبینیں رکھ دیں

    پھر نیا سال دبے پاؤں چلا آیا ہے

    جاؤ تاریک مکانوں میں چراغاں کر دو

    مآخذ:

    • کتاب : Aina Khane (Pg. 82)
    • Author : Akhtar payami
    • مطبع : Zain Publications (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY