نظر بھر دیکھ لوں بس

شارق کیفی

نظر بھر دیکھ لوں بس

شارق کیفی

MORE BY شارق کیفی

    پتہ ہے

    تمہارے ساتھ

    میرے ساتھ

    کتنے اتفاق اک ساتھ ہوئے ہوں گے

    تو یہ صورت بنی ہے

    کہ ہم اک ساتھ سانسیں لے رہے ہیں

    کہ ہم اک ساتھ ہیں اس وقت دنیا میں

    یہی سب سے بڑا رشتہ ہے شاید مجھ میں تم میں

    میں ایسا جانتا ہوں

    کہ اس رشتے سے ہر انساں جو دنیا میں ہے رشتے دار ہے میرا

    مگر ان رشتے داروں کو نہیں معلوم میرے

    میں کیا لگتا ہوں ان کا

    سو میں بھی

    تعارف اس حوالے سے کبھی ان کو نہیں دیتا

    مری خواہش بس اتنی ہے کہ میں جانے سے پہلے اس جہاں سے

    زیادہ سے زیادہ اپنے لوگوں کو نظر بھر دیکھ لوں بس

    تو چھو کر دیکھ لوں بس

    سمجھ میں آ گیا اب

    سحر سے شام تک میں کس لیے سڑکوں پہ پھرتا ہوں

    میں کھڑکی سے لگی اک سیٹ کی خاطر سفر میں

    کسی بچے کی صورت کیوں جھگڑتا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY